منہ میں چھالے بننے کی وجوہات
منہ کے چھالے کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتے ہیں لیکن عموماً یہ بچوں یا بوڑھوں کے منہ میں زیادہ بنتے ہیں.
منہ میں چھالے بننا عام بیماری ہے جس کا سبب جراثیم بنتے ہیں۔اس جراثیم کو کینیڈا البیقان کہتے ہیں.
کینڈیڈا البیقان منہ کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سفید کیڑے کائنات کی زندہ مخلوق ہیں جو انسانوں کے منہ میں پائے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کی وجہ سے کچھ دوسری بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں.
منہ کے اندر چھالے سفید شکل میں بنتے ہیں، یہ زبان اور گالوں کے اندرونی طرف زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ بعض اوقات منہ کے اوپری حصے اور مسوڑھوں پر بھی ہو جاتے ہیں.
اگرچہ منہ کے چھالے کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتے ہیں لیکن عموماً یہ لوگوں کے منہ میں زیادہ بنتے ہیں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے افراد کو بھی متاثر کرتے ہیں جو کسی خاص بیماری کی ادویات استعمال کر رہے ہوں یا صحت کے مسائل کا شکار ہوں۔
اگر کسی شخص کی قوت مدافعت بہتر کام کر رہی ہے تو اس کے لیے منہ کے چھالے کوئی خطرے کی بات نہیں ہے البتہ اگر قوت مدافعت کمزور ہو تو اس پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔
منہ کے چھالے بننے کے اسباب
بعض اوقات ہمارے جسم میں حفاظتی نظام یا مدافعتی نظام خراب ہو جاتے ہیں، جس سے کینڈیڈا فنگس کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور منہ میں چھالے بن جاتے ہیں۔

منہ کے چھالے ختم کرنے کے لیے لوگ مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں
منہ کے چھالے اور خطرے کے عوامل
اگر آپ کو مندرجہ ذیل مسائل میں سے کسی کا سامنا ہے تو یہ منہ کے چھالوں سے زیادہ خطرے کی بات ہو سکتی ہے۔
قوت مدافعت کی کمزوری
قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے شیر خوار اور بزرگ افراد کے منہ میں چھالے بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
اگر کسی شخص کی قوت مدافعت بہتر کام کر رہی ہے تو اس کے لیے منہ کے چھالے ہو بھی جائیں تو کوئی خطرے کی بات نہیں.
ذیابیطس
اگر آپ شوگر کا علاج نہیں کرتے یا مرض پر اچھی طرح سے قابو نہیں پایا جاتا تو آپ کے لعاب میں شوگر کی مقدار میں اضافہ ہوسکتا ہے، جو چھالوں کی افزائش کا سبب بنتا ہے.
کچھ دوائیاں جسم میںں معمول کے توازن کو خراب کرتی ہیں، یوں منہ میں چھالے پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
منہ کی دیگر بیماریاں
مصنوعی دانت لگوانا، خاص طور پر اوپر کے دانت یا منہ کا خشک ہونا بھی منہ کے چھالوں کا سبب بنتے ہیں.زیادہ گرم چیزیں کھاتے سے بھی منہ میں چھاپے ہو جاتے.ہیں.