Home Top Ad

Responsive Ads Here

آک ‏کا ‏پودا ‏فائدہ ‏مند ‏مگر ‏زہریلا ‏

آک کے پودے کے فائدے 
آک / آکھ / مدار / (Caletropis
آکھ کا پودا ڈیڈ ھ گز سے دوگز تک بلند ہو جاتا ہے لیکن عموماًایک یا نصف گز تک بلند دیکھا گیا ہے یہ شاخ در شاخ ہو کر بھی پھیلتا ہے لیکن زیادہ تر جڑ ہی سے شاخیں نکل کرادھر پھیل جاتی ہے مدار کے جس حصہ کوتوڑا جائے سفید گاڑھا دودھ ٹپکنا شروع ہو جاتا ہے اطراف میں جڑ کی نسبت زیادہ دودھ نکلتا ہے۔
پتے۔
برگد کے پتو ں سے مشابہ لیکن ان کی مانند سبز نہیں ہو تے بلکہ سفید مائل ہوتے ہیں ۔ تنوں اور شاخوں پر سفید رؤواں لگا رہتا ہے ۔ پک جا نے پر زرد رنگ کے ہو جاتے ہیں ۔
پھول ۔
کنوری نما گچھوں میں لگتے ہو تے ہیں ۔ جو باہر سے سفید اور اندر سے سر خی مائل ہوتے ہیں ۔ پھول کے عین درمیان لونگ کے سر کی مانند ایک شے ہوتی ہے ۔ جس کو قرنفل مدار یعنی آنکھ کی لونگ کہتے ہیں ۔
پھل۔
اسکی شکل عموماًلمبو تری اور درمیان سے خم کھائی ہوتی ہے ۔ خشک ہونے پر جب پھٹتا ہے تو اس کے اندر سے سنھبل کی مانند روئی نکلتی ہے ۔ جو نہاہت نرم وملائم اورچکنی ہوتی ہے ۔
تخم
 ۔ بعض آکھ کے پودوں پر ایک قسم کی رطوبت منجمد ہوتی ہے ۔ اس کو صنغ عشر یا شکرالعثر کہتے ہیں ۔
دودھ۔
آکھ کے ہر حصے کوجس کوتوڑاجائے تواس سے مفید گاڑھا دودھ نکلتا ہے جو زہر یلا ہو تا ہے۔
نوٹ۔
اس پودے کاہر جز بطور دواء کام آتا ہے۔
آکھ کی اقسام۔
۱۔جسکی ماہیت اوپر بیان کی جاچکی ہے یہ بطور دواء استعما ل ہوتی ہے ۔
2۔پھول مطلقاًسفید ہوتا ہے اور اسکا درخت پہلی قسم سے بڑا ہو تاہے ۔
3۔اس قسم کا آکھ مزکورہ اقسام سے چھوٹاہو تا ہے ۔ اور پھول پستی مائل بہ مفید ہوتاہے ۔
مقام پیدائش ۔
پاکستان ۔ ہندوستان ۔ سری لنکا ۔ افغانستان ، متحدہ عرب امارات, ایران ،اور افریقہ ہیں ۔ پاکستان کی بنجر زمینو ں اور ریگستان میں پایا جا تاہے ۔ موسم گرما میں بکثرت ہوتاہے ۔
ذائقہ ۔
تلخ تیزی مائل
مزاج ۔
پھول ،جڑ ، پتے ، اور شاخیں تیسرے درجے میں گرم خشک آکھ کا دودھ چو تھے میں گرم اور خشک ہے ۔ 
افعال۔
تازہ پتے مسکن درد اور سردی کے اورام تحلیل کرتے ہیں ۔

۔ نوٹ۔
 چونکہ یہ نہایت تیز ہے اور اس دوسر ی تکلیفوں کو بھی خطرہ ہے ۔ لٰہذا احتیاط کریں ۔ زیا دہ مقدار میں استعمال کرنے پر معدہ اور انتوں میں خراش شدید پیدا ہو سکتی ہے ۔ بھڑ ،سانپ ، بچھو کے کاٹے ہو ئے مقام پر لگانے سے ان کے زہر کو تسکین بخشتا ہے ۔ 
آکھ کے تازہ پتوں کا استعما ل ۔
جوڑوں کیے درد کی بیماری میں اور دیگر اورام پر گرم کرکے باندھے جا تے ہیں اور ان کو نیم گرم کرکے ان کو ہا تھو ں سے مل کر ان کا پانی نکال کر کان میں ڈالنے سے درد کو تسکین بخشتا ہے.  آک کے پتوں کو گرم کر کے سرسوں کا تیل لگا کر سوجن والی جگہ پر رکھ کے اوپر کپڑا باندھ دیں. چار یا پانچ دن میں ورم یا سوجن ختم ہو جائے گی. 

نوٹ۔

آک کے زیادہ  سے زیادہ مقدار میں استعمال سے آنتیں وغیرہ چھل جاتی ہیں  
مشہور مرکبات ۔
 آکھ ،
کے یا 
مدار کے سب اجزاء میں ایک کڑوا زادرال جیسا دودھ ہوتا ہے 
مدار یعنی  آک کا ایک دانہ بھی نہایت مفید ہے ہے ۔ یہ الکوحل میں حل ہو سکتا ہے لیکن تیل میں حل نہیں ہو سکتااور عجیب یہ کہ گرمی سے پھلتا پھولتا اور سر دی سے پگھلتا ہے ۔ 
۔ نو ٹ ۔
مدار کی دھونی مچھروں کو بھگا دیتی ہے ۔
فائدے

1۔ آک کا دودھ داد کی بہت اچھی دوا ہے‘ جو داد یعنی چنبل جو کہ پرانا ہوگیا ہو اور کسی دوا سے بھی اچھا نہ ہوتا ہو۔ اسے کپڑے سے کھجا کر یہ دودھ لگا دیا جائے۔ اس کے لگانے سے کچھ تکلیف ضرور ہوگی۔ لیکن داد اچھا ہوجائے گا۔ آک کا پتہ تلوں کے تیل سے چپڑ کر گرم کریں اور گنٹھیا میں جوڑوں پر باندھیں‘ چند بار کے باندھنے سے سوجن اور درد دور ہوجائے گا.
نوٹ...یہ ایک زہریلا پودا ہے اس لئے استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں.