سوال: بارہ بلین brain cells کا بے بہا ذخیرہ اللہ نے انسان کو کیوں دیا جو آج تک ایک محتاط اندازے کے مطابق انسان زیادہ سے زیادہ آٹھ یا نو فیصد استعمال کر سکا ہے۔ ایسا رب نے کیوں کیا؟
جواب: بڑی سادہ سی بات ہے کہ شاید یہ ذہن اس عظیم تر ذہن کا خاکہ ہے جو موت کے بعد ہمیں بحال کیا جائے گا دنیا بہت مختصر تھی، اس کے مقاصد متعین تھے، یہ determined ends پر چل رہی تھی تو اس نے انسان کو پوری صلاحیتیں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اجازت کیا؟ دنیا میں ان صلاحیتوں کا کوئی کام بھی نہیں تھا۔ خدا قدیر ہے مرید ہے، متکلم ہے اور آپ بھی قدیر ہو، مرید ہو، متکلم ہو مگر آپ کی قدرت کو اللہ نے اس نے چھین لیا کہ یہ اگلے زمانوں میں، اگلے وقتوں میں جب آپ جنت و دوزخ میں داخل کر دیئے جائیں گے اور خاص طور پر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے تو پھر آپ کو ان cells کی ضرورت پڑے گی جو آپ کے بقیہ ماندہ ذہن کے ہیں جو اللہ تعالی آپ کی زندگی کے بعد reconstruct کریگا اور جو آپ کی خلافت زمین و آسمان کا باعث بنیں گے کیونکہ آپ جس جنت میں جا رہے ہو وہاں میرا نہیں خیال کہ اس قسم کے بال ہوتے ہونگے، چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہونگے۔ وہاں آپ کا پورا ایک سٹار ہے اور جیسے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی چہل کاف میں کہا:
(اور انسان کے دل کے مقابل ایک ستارہ ہے جو جنت میں اسے عطا کیا جائے گا)
وہ اتنا بڑا مقام ہے کہ اس بڑی گلیکسی میں ایک ستارے سے دوسرے تک کا فاصلہ حدیث کے مطابق پانچ سو light years کا ہے۔ ظاہر کہ پانچ دس مرلے کے مکان تو وہاں ہونے کے نہیں ہیں یا کنال دو کنال کے۔۔۔۔ تو اتنی بڑی جگہ کو سنبھالنا، سجانا اپنے اپنے پس منظر سے۔۔۔۔ آپ کو ایسی اہلیتیں چاہییں ہیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسباب کے بغیر کسی دنیا کو تخلیق کرنے کے لئے آپ کو جو چاہیے وہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دماغ میں محفوظ کیا ہوا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو جادوگر بھی ایسی ہی کسی صلاحیت کا سہارا لیتے ہیں اور مجذوب بھی اسی صلاحیت کا سہارا لیتے ہیں اور جسے آپ extra sensory perception کہتے ہیں اس کا مرکز بھی دماغ ہے اور telekinesis کا بھی یہی مرکز ہے، ارتکازات کا بھی یہی مرکز ہے مگر اللہ نے جستہ جستہ six billions میں سے کسی ایک آدھ انسان کو یہ صلاحیت دے کر نشاندہی ضرور کی ہے کہ آپ کے دماغ میں یہ صلاحیت موجود ہیں مگر جہاں انسانیت کو چونکہ یہ صلاحیتیں نہیں چاہیے تھیں اس لئے ان پر پابندی ہے اور امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالی العزیز جب ہم upper galaxial life میں پہنچیں گے، ابدالاآباد کی زندگی کو پہنچیں گے تو ان سارے cells کی ضرورت پڑے گی اور ان سب کا اختیار ہمیں عطا کیا جائے گا۔
چراغ سر راہ
صفحہ نمبر 180-181
اقتباس